اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایئرو اسپیس یونٹ کے کمانڈر جنرل علی حاجی زادہ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو 2 سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس عرصے میں امریکی حکام نے قاسم سلیمانی کی شہادت کے بارے میں بہت کچھ کہا اور بہت سے رازوں سے پردہ بھی اٹھایا کہ وہ اس عظیم کمانڈر کو شہید کرنے سے کن مقاصد کے درپے تھے۔
انہوں نے جنرل شہید قاسم سلیمانی کے دوستوں کے جہاد اور انکی شہادت کے عنوان سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کیلئے امریکہ کی دہشتگرد حکومت کا ساتھ دیا وہ صرف ایک ایرانی کمانڈر کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد ایران کے اسلامی نظام پر کاری ضرب لگانا تھا۔
جنرل علی حاجی زادہ نے کہا کہ امریکی حکام نے یہ سوچا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے پر ایران کوئی رد عمل نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تسلط پسند نظام نے اس اقدام سے استقامتی محاذ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور امریکہ کے سابق خبیث صدر، ’ٹرمپ‘ نے 7 ٹریلین ڈالر خرچ کئے اور اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا، اس لئے کہ ان شکستوں کے روح رواں شہید جنرل قاسم سلیمانی تھے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کا دوسرا مقصد استقامتی محاذ کو نقصان پہنچانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242